گلگت مشرقی پاکستان کی نسل کشی سے کیا سیکھ سکتا ہے؟
تحریر:
سینگے سیرنگ
@SeringSenge
واشنگٹن — ہر سال 23 مارچ کو پاکستان یومِ جمہوریہ مناتا ہے، جب 1956 میں اس نے خود کو ایک خودمختار ریاست قرار دیا تھا۔ اسی ہفتے 25 مارچ کو بنگلہ دیش “مشرقی پاکستان نسل کشی دن” مناتا ہے، تاکہ دنیا ج کے ہاتھوں ہونے والے مظالم کی یاد دلائی جا سکے۔
اس سال بنگلہ دیش کی قیادت نے ایک بار پھر 1971 کے واقعات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “آپریشن سرچ لائٹ” کے تحت ایک منظم اور پہلے سے منصوبہ بند قتلِ عام کیا گیا، جس میں اساتذہ، دانشوروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ کارروائی صرف ایک فوجی آپریشن نہیں تھی بلکہ ایک ایسی مہم تھی جس کا مقصد ایک پوری شناخت کو دبانا تھا۔ اس کے نتیجے میں ایک طویل نو ماہ کی جنگ شروع ہوئی، جس نے بالآخر پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور بنگلہ دیش ایک آزاد ریاست کے طور پر سامنے آیا۔
اس دوران بنگالی عوام نے شدید مظالم برداشت کیے۔ اندازوں کے مطابق لاکھوں افراد مارے گئے اور بڑی تعداد میں خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو اس سانحے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
مضمون اس تاریخی واقعے کو محض ماضی کا ایک باب نہیں بلکہ ایک سبق کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب ریاستی طاقت عوام کے حقوق کو دبانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، تو اس کے نتائج نہ صرف تباہ کن ہوتے ہیں بلکہ وہ ریاست کی بنیادوں کو بھی ہلا دیتے ہیں۔
مصنف اس تناظر میں گلگت بلتستان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا وہاں کے لوگوں کو تاریخ کے اس سبق سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سیاسی محرومی، نمائندگی کی کمی اور شناخت کے مسائل کو نظر انداز کرنا طویل مدتی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔
مضمون کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کا تجربہ یہ واضح کرتا ہے کہ طاقت کے ذریعے خاموشی مسلط کرنا کبھی پائیدار حل نہیں ہوتا۔ عوامی خواہشات کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ بالآخر بغاوت، مزاحمت اور علیحدگی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
یہ تجزیہ اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ تاریخ کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، اور اگر ماضی کے اسباق کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو وہی غلطیاں دوبارہ دہرائی جا سکتی ہیں۔
بشکریہ:
سینگے سیرنگ
Global Strat View::