کب سے ہُوں کیا بتاؤں جہانِ خراب میں شبہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں رَو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں